بنگلورو،27/ ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی)ایک طرف کاویری سے تمل ناڈو کو پانی فراہم کرنے کی بات کو لے کرکرناٹک میں بند او ر احتجاجات کا سلسلہ چل پڑا ہے اسی درمیان کرناٹک کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کے مترادف کاویری ریور مانیٹرنگ کمیٹی نے تازہ حکم صادر کیا ہے کہ کرناٹک کاویری سے تمل ناڈوکو 28ستمبر تا15/اکتوبر روزانہ 3000کیوسک پانی فراہم کیا جائے۔
بتایا جاتا ہے کہ کاویری ریور مانیٹرنگ کمیٹی کے افسروں نے اپنی میٹنگ کرناٹک، تمل ناڈو، پانڈیچری اور کیرالہ کے افسروں کے ساتھ منگل کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ میٹنگ کی جس میں کرناٹک کو ہدایت دی گئی کہ وہ تمل ناڈو کو مزید 18دنوں تک روزانہ 3000کیوسک پانی فراہم کرے۔تمل ناڈو کی طرف سے مانگ کی گئی کہ روزانہ 12500کیوسک پانی فراہم کرنے کی کرناٹک کو ہدایت دی جائے تاہم کرناٹک کے افسروں نے اس پر سخت اعتراض کیا اور ریاست میں پانی کی قلت کی صورتحال سے آگاہ کروایا۔ جس کے نتیجے میں یہ ہدایت دی گئی کہ روزانہ 3000کیوسک پانی تمل ناڈو کو دیا جائے۔ تاہم ریاستی حکومت نے اس حکم کو بھی ماننے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
میسور میں وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ اس حکم کے خلاف ریاستی حکومت سپریم کورٹ سے رجو ع ہونے کے بارے میں ماہرین قانون سے مشورہ کر رہی ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار نے بھی اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب کاویری طاس میں پانی ہی میسر نہیں ہے تو پھر تمل ناڈو کو فراہم کرنے کا سوال کہاں سے اٹھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی ٹیم نے کاویری ریور مانیٹرنگ کمیٹی کی میٹنگ میں ریاست کا مؤقف مؤثر طور پر رکھا ہے جس کے نتیجے میں تمل ناڈو کی طرف سے روزانہ 12ہزارکیوسک پانی فراہم کرنے کے مطالبہ کو یکسر مسترد کر دیا گیا۔ آنے والے دنوں میں بھی ریاست کے مطالبہ کو مؤثر انداز میں ہر محاذ پر پیش کر کے عوام اور کسانوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔